گڑگاؤں 20دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) معصوم نو سالہ طالب علم پردیومن کے ہولناک قتل معاملے میں بدھ کو جیووینائل جسٹس بورڈ JJB نے بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے اس معاملہ میں فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ 16سالہ ملزم طالب علم پر بالغ افراد کی طرح مقدمات کی شنوائی ہوگی ۔ اس صورت میں ملزم طالب علم 21 سال تک تک بچوں کے اصلاحی مرکز میں رہے گا ۔عدالت نے سماجی پروفیشنل اور جرم کی سنگینی دیکھتے ہوئے ملزم طالب علم کو بالغ افراد کے زمرے میں رکھتے ہوئے اس پر بالغ افراد کی طرح مقدمہ چلانے کی ہدایت دی ہے ۔ جے جے بی نے ملزم طالب علم کو اس کیس میں 22 نومبر کو خصوصی عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا ، اس معاملے میں سی بی آئی نے جے جے بی میں عرضی داخل کرکے مطالبہ کیا تھا اس معاملے میں گرفتار ملزم طالب علم پر بالغ افراد کی طرح مقدمہ چلے ، سی بی آئی کے دلائل اور مدعاعلیہ کے وکیل استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا ۔ واضح ہو کہ ریان انٹرنیشنل سکول کے باتھ روم میں سات سالہ پردیومن کو 8 ستمبر کو قتل کیا گیا تھا۔مقامی پولیس نے اولا وین کنڈیکٹر اشوک کو گرفتار کیا ؛ لیکن جب اس کی ذمہ داری سی بی آئی کو سونپی گئی تو سی بی آئی نے اشوک کے بجائے ریان پیلک اسکول کے ہی ایک طالب علم کو اس کیس میں گرفتار کیا گیا جس نے یہ بات قبول کی اس نے پردیومن کا قتل کیا ہے ۔ واضح ہو کہ ابھی تک اس ملزم طالب علم کے نام کا انکشاف نہیں کیا گیا ہے ؛ بلکہ خود اس کے نام کو مخفی رکھا جا رہا ہے ، میڈیا اہلکاروں نے بھی ملزم طالب علم کا نام جاننے کی کوشش کی ؛ لیکن اس سلسلے میں میڈیا اہلکار کو مایوسی ہاتھ لگی ، تاہم سی بی آئی نے اس معاملے میں ہریانہ پولیس کے مشتبہ کردار پر بھی سوالات اٹھائے ۔